ایرانی ذرائع ابلاغ کے ساتھ انٹرویو میں ’’قایا مالک ‘‘نے کہا کہ صدر رجب طیب اردغان کا حالیہ دورہ تہران علاقے کے حوالے سے انقرہ کی پالیسی میں تبدیلی کی نشانی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ترکی کی جسٹس اورڈیولپمنٹ پارٹی کی طرف سے ترکی کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد رجب طیب اردغان پانچ بار ایران کا دورہ کر چکے ہیں جبکہ بطور صدر وہ دوبار ایران آئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان پچھلی ملاقاتیں معمولی تھی لیکن علاقے کی موجودہ صورتحال کے درمیان رجب طیب اردغان کا حالیہ دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
تجزیہ نگار نے علاقے کے حوالے سے انقرہ کی پالیسیوں میں تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اردغان کا حالیہ تہران دورہ ترکی کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی بڑی علامت ہے اورانقرہ کا موقف علاقے میں ایران کی پالیسیوں کے بہت قریب ہے۔
کردستان ریفرنڈم کے حوالے سے ترکی کے سخت موقف کی طرف سے اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انقرہ عراقی کردستان کے حالیہ اقدامات کے اپنی سرحدوں پر منفی اثرات سے فکر مند ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ بدھ کو ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی اورترک صدر رجب طیب اردغان نے تہران میں ایک مشترکہ کانفرنس میں عراقی کردستان میں علحٰیدگی کے حوالے سے ریفرنڈم کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے کہاکہ ایران اورترکی عراقی ارضی سالمیت اورقومی اتحاد کے تحٖفظ کیلئے عراقی حکومت کے ذریعے انجام دئے گئے اقدامات کی حمایت کریں گے۔
مشترکہ بیان میں ترکی اورایران کے صدور نے دونوں ملکوں کی اقوام کی دوستی وبھائی چارے اورتہران وانقرہ کے درمیان دوطرفہ اورتعاون کی تقویت کیلئے سیاسی عزم وارادے پر زور دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲